Bahar-e-Durood O Salam: Benefits of la ilaha illallah

Benefits of la ilaha illallah


Benefits of reciting la ilaha illallah

 لا الہ الا اللّٰہ ُ کی فضیلت و برکات
Lailahaillallah Muhammadur Rasulullah 

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ

(اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللّٰہ کے رسول ہیں
(لا إله إلا اللّٰہ ) اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں کلمہ طیبہ میں توحید کا اقرار ہیں پر اس کے ساتھ اگر کلمہ طیبہ کے دوسرے حصہ کو دیکھیں تو اس کےصحیح اور درست مطلب کو دیکھیں تو (محمد رسول اللّٰہ )محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ آج اور اب بھی اللّٰہ کے رسول ہیں لہذا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ اور حیات نبی ہیں اللّٰہ عزوجل نے کلمے کے الفاظ میں یہ اہتمام کردیا ہے کہ اس سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زندہ اور حیات ہونا ثابت ہو کیوں کے کلمہ کا کوئی بھی یہ مطلب نہیں لے سکتا کے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول تھے کیوں کے سب یہی مفہوم لینے پہ مجبور ہیں کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں اور سب کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ آج اور اب بھی اللّٰہ کے رسول ہیں سبحان اللّٰہ
 جس طرح قرآنِ پاک میں اللّٰہ جل شانہ کا  فرمان ہیں

 وَ  لَا  تَحْسَبَنَّ  الَّذِیْنَ  قُتِلُوْا  فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  اَمْوَاتًاؕ- بَلْ  اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ  یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)
Surah Al Imran Ayat 169 
اور جو اللّٰہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں
 جب شھدأ   کا رتبہ یہ ہےکہ  مردہ  خیال بھی نہیں کر سکتے تو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم  کو کیسے مردہ  خیال کرسکتے ہو  ؟  جس کی عظمت کا اندازہ اس آیت سے لگایا  جا سکتا ہیں
إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيماً
بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اُس غیب بتانے والے( نبی)پر اے ایمان والو اُن پر درود اور خوب سلام بھیجو
Surah Al Ahzab -33, Aayat 56

با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب
 
لَا إِلَهَ إلا اللّٰہ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ
( اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللّٰہ کے رسول ہیں )

کلمہ طیبہ کی معرفت ہی دراصل اللّٰہ تعالٰی کی قربت ہے لاالہ الا اللّٰہ کہنے سے توحید حاصل ہوئی جس کی تکمیل محمد رسول اللّٰہ سے ہوئی ہے
تمام علوم کا مرکز لا الہ الا اللّٰہ ہے جو شخص یہ ذکر کرتا ہے اس پر خاص برکت نازل ہوتی ہے اللّٰہ تعالٰی ہر بھلائی اس کو دیتا ہے اور ہر برائی سے اس کو بچاتا ہے

سارے چھوٹے بڑھے گناہوں سے پاک

یہ وہ بابرکت کلمہ ہے جو اگر کوئی ۸۰ سال کا کافر بھی ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّاالله ُ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ کہے تو سارے چھوٹے بڑھے گناہوں سے ایسے پاک ہوجاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو
کلمہ طیبہ اپنے پڑھنے والوں کو اس مقامِ نور تک پہنچائیں گے جہاں اس ذاکر پر انوار کی بارشیں ہوں گی
جو لَا إِلَهَ الا اللّٰہ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ کہے
( اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمد اللّٰہ کے رسول ہیں )
تو اللّٰہ تعالٰی اُس گواہی دینے والے کو دوزخ پر حرام کردیتا ہے
(بُخاری و مسلم )
سرورِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
بہترین ذکر لاالہ الا اللّٰہ اور بہترین دعا الحمدللّٰہ ہے اگرچہ فرشتے تمام اعمال اللّٰہ تعالٰی کے حضور لے جاتے ہیں مگر لاالہ الا اللّٰہ وہ ذکر ہے جو خود بذاتہ بارگاہِ الہی میں پہنچتا ہے
سرورِ عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے
لا الہ الا اللّٰہ کو اللّٰہ تک پہونچنے سے کوئی چیز نہیں روکتی
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
میں نے جبرائیل علیہ السلام سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پروردگار سے سنا ہے کہ اللّٰہ عزوجل نے فرمایا لا الہ الا اللّٰہ میرا مضبوط قلعہ ہے پس جو بھی میرے اس قلعہ میں داخل ہوگا وہ میرے عذاب سے محفوظ رہے گا

حدیث شریف میں ہے جس شخص نے پوری طہارت کے ساتھ روزانہ ایک ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا تو اللّٰہ تعالٰی اسباب پیدا کرکے اس کی روزی آسان بالکل آسان کر دیتا ہے جو شخص رات کو سوتے وقت ایک ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھے تو رات بھر اس کی روح عرش کے نیچے سکون سے رہتی ہے
سورج نکلنے تک کلمہ طیبہ پڑھنے والے کا نفس شیطانی کمزور ہوجاتا ہے نیا چاند دیکھتے وقت کلمہ طیبہ پڑھنے والا تمام بیماریوں اور تکالیف سے محفوط رہتا ہے پوری ہمت اور دل جمعی سے کلمہ طیبہ پڑھ کر جو کسی ظالم کے پاس جائے تو وہ ظالم ہلاک و برباد ہوجائے کلمہ طیبہ یہ تعداد پڑھ کر کسی شہر میں جائے تو وہاں کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہتا ہے کلمہ طیبہ پڑھنے والے کے مقاصد پورے ہو جا تے ہیں کلمہ طیبہ پڑھنا ہر بیماری کے لیے شفا ہیں جس نے کلمہ طیبہ پڑھا اس کی مغفرت ہوگی اور مرتے وقت جس کی زبان پر کلمہ طیبہ رہا اس کی بھی مغفرت ہوگی
لا الہ الا اللّٰہ کہنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں کوئی اخلاص کے ساتھ کلمہ طیب پڑھے تو وہ کلمہ عرش تک بُلند ہوجاتا  ہے
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو کوئی بعد نمازِ فجر طلوعِ آفتاب تک لا الہ الا اللّٰہ کا ورد کرتا رہے اور درمیان میں دنیاوی بات نہ کرے تو اللّٰہ تبارک و تعالٰی اُس کو ضرور جنت عطا فرمائے گا
اور جو کوئی وضو کرتے وقت یہی کلمات کہے تو اللّٰہ تبارک و تعالٰی ہر قطرے کے بدلے میں ایک فِرشتہ پیدا کرے گا جو قیامت تک کلمہ پڑھے گا اُن سب کا ثواب اُس شخص کو ملے گا
( انیس الواعظین )

چہرے قیامت کے دن چودھویں کے چاند سے بڑھ کر روشن
کلمہ طیبہ کا ذکر کرنے والوں کے چہرے قیامت کے دن چودھویں کے چاند سے بڑھ کر روشن ہونگے
حدیث میں ہے
لا الہ الا اللّٰہ ( کا ذکر ) کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دیتا اور کوئی بھی عمل اس کے برابر نہیں
حصن حصین صفحہ ۲۵۶
رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا
حدیث شریف میں آیا ہے کہ وہ ذکر جو کسی وقت ‘ جگہ اور سبب کے ساتھ مخصوص نہیں وہ لا الہ الا اللّٰہ ہی ہے سب سے افضل ذکر ہے
حدیث میں ہے
یہی سب سے بڑھکر نیکی ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ وہ بہرہ ور وہ شخص ہوگا جس نے دل و جان سے (یعنی ) خلوصِ قلب کے ساتھ لا الہ الا اللّٰہ کہا ہوگا

ساری کائنات کا وزن ایک طرف ہو اور لاَاِلہ اِلاَّ اللّٰہ کا وزن ایک طرف تو کلمہ شریف کا وزن بڑھ جاتا ہے
حدیث میں ہے
اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور لا الہ لا اللّٰہ دوسرے پلڑے میں ہو تو وہ ان سب سے بڑھ جائے گا
حصن حصین صفحہ ۲۵۶
جس شخص نے لا الہ لا اللّٰہ کہا اور اُس کے دل میں جَوُ برابر بھی خلوص یا ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جس شخص نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں گہوں کے دانہ برابر بھی خلوص یا ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور جس نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا
حصن حصین صفحہ ۲۵۵

کلمہ پڑھنے والے کے حق میں عرش مغفرت کا سوال کرتا ہے

جب کوئی اللّٰہ ( عزوجل ) کا بندہ لاَاِلہ اِلاَّاللّٰہ کہتا ہے تو اللّٰہ( عزوجل ) کا عرش ہلنے لگتا ہے حکم ہوتا ہے اے عرش ساکِن ہوجا وہ کہتا ہے اے اللّٰہ ( عزوجل ) اُس کلمہ پڑھنے والے کو بخش دے تاکہ مجھے سکون حاصل ہو اِرشاد ہوتا ہے میں نے بخش دیا
( انیس الواعظین )

سرکار ِ مدینہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
ایک دفعہ سرکار ِ دو عالم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے حاضرِ خدمت ہوکر عرض کی یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں بہت گناہگار ہوں بیان ختم کرنے کے بعد مدنی تاجدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تیرے گناہ ستاروں سے بھی زیادہ ہیں اس نے جواب دیا ہاں پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ‘ کیا بارش کے قطروں سے بھی زیادہ ہیں اس نے جواب دیا ہاں پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا کیا درختوں کے پتوں سے بھی زیادہ ہیں اس نے جواب دیا ہاں پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم پوچھا کیا تیرے گناہ اللّٰہ ( عزوجل ) کی رحمت سے بھی زیادہ ہیں ؟ اِس سوال پر وہ خاموش ہوکر رونے لگا سرکار صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا لاَاِلہ اِلاَّ اللّٰہ کہہ اللّٰہ ( عزوجل ) تیرے گناہ معاف فرمادے گا
( انیس الواعظین )

ہر نماز کے بعد صرف بیس ۲۰ سیکنڈ میں بیس ۲۰ ہزار نیکیاں کمایئے
حضور تاجدارِ مدینہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
ہرنماز کے بعد دس ۱۰ مرتبہ لاَاِلہ اِلاَّ اللّٰہ کہنے والے کو بیس ۲۰ ہزار نیکیاں ملتی ہیں اور سو ۱۰۰ مرتبہ کہنے والے کو اور جنت کے درمیاں تو موت کے سوا اور کوئی رکاوٹ ہی نہیں ہوتی یعنی مرتے ہی جنت میں داخل ہوگا
( انیس الواعظین )

لاَاِلہ اِلاَّ اللّٰہ کہنےوالے کے تمام گناہ مُعاف جاتے ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا
جو شخص سچے دل سے لاَاِلہ اِلاَّ اللّٰہ کہے اس کے ذرہ برابر بھی گناہ باقی نہ رہیں گے

گناہوں کے ننانوے ۹۹ دفتر پر ایک چھوٹا سا پرچہ بھاری

حضور تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے قیامت کے دن ایک شخص میزان کے پاس کھڑا کیا جائے گا ایک پلڑے میں اس کے برائیوں کے ننانوے ۹۹ دفاتر رکھے جائیں گے اور ہر ایک دفتر حدِ نظر تک وسیع ہوگا اور دوسرے پلڑے میں ایک چھوٹا سا پرچہ جس پر

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) 

لکھا ہوگا رکھا جائے گا پس یہ دوسرا پلڑا بھاری ہوجائیگا اللہ عزوجل اُس شخص کو بخش دے گا

سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ساتو ں آسمان اور ساتوں زمین والے ایک پلڑے میں ہوں اور لا الہ الا اللّٰہ دوسرے پلڑے میں ہو تو لا الہ الااللّٰہ کا پلڑا بھاری ہوجائے گا

سونے سے پہلے دو غلام آزاد کرنے کا ثواب

سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
جو شخص سوتے وقت دو مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہِ کہہ لے گویا اس نے اللہ کی راہ میں دو ۲ غلام آزاد کیے
( انیس الواعظین )
افضل ترین ذکر
حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے
افضل ترین ذکر لَا اِلٰهَ اِلَّا
اللّٰہُ ہے ( ترمذی)

لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں

کوئی اخلاص کے ساتھ کلمہ پاک پڑھے تو وہ کلمہ شریف عرش تک بلند ہوجاتا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کوئی آدمی اِخلاص کے ساتھ کبھی اس کلمہ کو کہتا ہے اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش پر پہنچ جاتا ہے جب تک گناہِ کبیرہ سے پرہیز کرتا رہے
( نسائی ‘ ترمذی ‘ حاکم )

اپنے ایمان کو تازہ کرو

لا الہ الا اللّٰہ کا ذکر کثرت سے کرنے سے ایمان تازہ ہوجاتا ہے جیسا کہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدنی تاجدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
تم اپنے ایما ن کو تازہ کرتے رہا کرو صحابہ کرام رضی اللّٰہ عنھم نے عرض کیا یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایمان کو
کس طرح تازہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کثرت سے لا الہ الا اللّٰہ کہتے رہا کرو
( طبرانی )

ستّر ہزار (70000)بار کلمۂ طیبہ پڑھنے کی فضیلت
حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابنِ عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مجھے یہ حدیثِ پاک پہنچی تھی:”مَنۡ قَالَ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ سَبۡعِيۡنَ اَلۡفًا غُفِرَ لَهٗ وَمَنۡ قِيۡلَ لَهٗ غُفِرَ لَهٗ اَيۡضًا یعنی جو شخص ستر ہزار بار لا الٰه الااللّٰہ پڑھے اس کی مغفرت کردی جائے گی اور جس کے لئے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت ہوجائے گی۔“ میں نے اتنی مقدار میں کلمۂ طیبہ پڑھا ہوا تھا، لیکن اس میں کسی کے لئے خاص نیت نہ کی تھی۔ایک مرتبہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دعوت میں شریک ہوا۔اس دعوت کے شرکاء میں سے ایک نوجوان کے کشف کا بڑا شُہرہ تھا۔کھانا کھاتے کھاتے وہ نوجوان رونے لگا۔میں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا:میں اپنی والدہ کو عذاب میں مبتلا دیکھتا ہوں۔میں نے دل ہی دل میں کلمے کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا۔وہ نوجوان فوراً ہی مسکرانے لگا اور کہا:اب میں اپنی ماں کو بہترین جگہ دیکھتا ہوں۔حضرت سیدنا شیخ مُحْیُ الدِّین ابن عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرمایا کرتےتھے:”میں نےحدیث کی صحت کو اس نوجوان کے کشف کے ذریعے اور اس نوجوان کے کشف کی صحت کو حدیث کے ذریعے پہچانا۔“
(مرقاۃالمفاتیح،ج3،ص222)